جیا[1]
معنی
١ - جی، جان، روح۔ "جیاتر سے بدر یا بر سے سکھی دن کیسے کٹیں گے بہار کے۔" ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٥٧ ) ٢ - محبوب، پیارا دل کے جہاں میں بیس کر جو میں نجھاتا ہوں پیا تج باج کئی دستا نہیں ہے توں مرے جیو کا جیا ( ١٦٧٢ء، عبداللہ قطب شاہ، دیوان، ٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان میں اصل 'جیو' کہ سے اسم 'جیا' ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢٥ء میں "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جی، جان، روح۔ "جیاتر سے بدر یا بر سے سکھی دن کیسے کٹیں گے بہار کے۔" ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٥٧ )